نئی دہلی4مارچ ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )کانگریس نے لوک سبھا انتخابات کی تاریخوں کے اعلان میں ہو رہی تاخیر کو لے کر کانگریس نے پی ایم مودی کی تنقید کی ہے۔کانگریس نے نریندر مودی حکومت پر سرکاری پروگراموں کا استعمال سیاسی جلسوں کے لئے کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن عام انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرنے کے لئے وزیر اعظم سرکاری پروگراموں کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر احمد پٹیل نے ٹوئٹ کر کے یہ بھی دعوی کیا کہ حکومت اپنے آخری منٹ تک سرکاری پیسوں کا استعمال اپنی تشہیر کے لئے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے پوچھا کہ کیا الیکشن کمیشن عام انتخابات کے لئے تاریخوں کے اعلان سے قبل وزیر اعظم کے ’سرکاری‘دورہ کے پروگراموں کی تکمیل کا انتظار کر رہا ہے؟ احمد پٹیل نے دعوی کیا کہ سرکاری پروگراموں کا استعمال سیاسی جلسوں، ٹی وی ، ریڈیو اور پرنٹ میڈیاکا استعمال سیاسی اشتہارات لئے ہو رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے حکومت کو پوری چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ آخری لمحے تک سرکاری پیسوں کا بے دریغ استعمال کرے۔ادھر الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ لوک سبھا انتخابات کی تاریخوں کا اعلان مارچ کے دوسرے ہفتے میں ہو سکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ انتخابات 6 سے 7 مراحل میں ہو سکتے ہیں۔ ادھر پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر انتخابات کی فرضی تاریخوں کی پوسٹ بھی وائرل ہو رہی ہے۔ اس پر نوٹس لیتے ہوئے دہلی کے چیف الیکشن افسر نے آئی پی سی کی مختلف دفعات میں مقدمہ درج کرایا تھا۔ چیف الیکشن افسر کے دفتر نے فیس بک اور ٹویٹر کے لیے لنک کو ڈیلیٹ کرنے کے لیے بھی کہا تھا ۔ سوشل میڈیا پر صرف انتخابات کی تاریخ ہی نہیں بلکہ پارٹیوں کے امیدواروں کی فرضی فہرست بھی وائرل ہونے کا معاملہ سامنے آ چکا ہے۔ یوپی میں سماجوادی پارٹی۔بی ایس پی اتحاد ہونے پر بی ایس پی امیدواروں کی فرضی فہرست بھی وائرل ہوئی تھی۔ جس پر بہوجن سماج کیس بھی درج کرا چکی ہے۔بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی موجودہ حالت کے پیش نظر کی جارہی قیاس آرائی کے درمیان چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ نے کہا کہ لوک سبھا کے آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔